چینئی8؍اکتوبر (پی ٹی آئی) آنجہانی جیاللیتا کی پراسرار موت کی تحقیقات کررہے ایک پینل کو اپولو ہاسپٹل کے ذمہ داروں نے یہ بتایا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ کی آمد ورفت کے دوران ہاسپٹل کے احاطہ میں جہاں وہ زیر علاج تھیں سی سی ٹی وی کیمرے پولیس کی ہدایت پربند کردئے جاتے تھے۔ ہاسپٹل کی جانب سے جسٹس اے۔ ارمگاسوامی کمیشن کو پیش کردہ حلف نامہ میں لیگل منیجر ایس ایم موہن کمارنے بتایا کہ علاج کئے جانے والے ہاسپٹل کے کمرے چاہے وہ آئی سی یو ہو یا سی سی یو، سی سی ٹی وی کیمرے بند رہتے۔ حالانکہ سکیورٹی کے لئے ہاسپٹل کی راہداریوں میں کیمرے نصب تھے۔ یہ اطلاع ہاسپٹل کی نگراں کار میمونہ بادشاہ نے دی۔ کیمروں کے متعلق کمیشن کی جانب سے استفسار کئے گئے دوسوالوں کے جواب میں ہاسپٹل نے ایک اخباری بیان میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ میمونہ نے بتایا کہ جب بھی سابق وزیراعلیٰ کو اسکیان یا دیگر معائنہ کے لئے ہاسپٹل کے اندرونی کمروں میں لے جایا جاتا اس وقت اس مقام کا احاطہ کرنے والے تمام کیمروں کو بند کردیا جاتا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی انسپکٹر جنرل آف پولیس (انٹلی جنس) کے این ستیہ مورتی سمیت پولیس عہدہ داروں کی ہدایت پر کی جاتی تھی۔